نقیب محسود کے بیہیمانہ قتل کے خلاف سراپا احتجاج اس کے عزیز و اقارب جمع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے متاثرین کی قطاریں لگ گئیں۔ وہ راؤ انوار جسے میڈیا ”دبنگ“ اور ”نڈر“ کہہ کر چڑھاتی تھی اس کے پول کھلنے لگے کہ کس طرح اغوا برائے تاوان کا کاروبار وردی والے دہشتگرد چلا رہے تھے۔ اب غیور متاثرین کا جھمگھٹا دیکھتے ہی نہ وہ ”دبنگ“ رہا نہ ”نڈر“ بلکہ دم دبا کے ایسا بھاگا کہ ریاست کا آئین و قانون پیروں تلے روند دیا۔ عدالتی احکامات گرد کی طرح اڑا دیے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک نقیب محسود اپنے خون سے ریاست کی بے بسی کا پردہ چاک کر گیا کہ اکیلا راؤ انوار ایک جانب اور ملک کی عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام دوسری جانب ساکت کھڑے ہیں۔ جب سہراب گوٹھ سے دھرنا اسلام آباد منتقل کرنے کی بات آئی تو بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ شاید موسم کی سختی اور دارلحکومت کی سیکیوٹی کو بہانہ بنا کر کوئی اندرون خانہ ’سیٹنگ‘ بن جائے گی حتی کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وفد کی جانب سے کچھ کوششیں بھی کی گئیں، دیت کی خبریں بھی چلیں مگر ایک غیور باپ اقبال لالہ کے بعد ہم نے ایک اور بہادر باپ کو دیکھا۔ نقیب
شہید کے والد نے کہا کہ دیت لینے کی خبر بے بنیاد ہے اور اب یہ معاملہ اکیلے نقیب کا نہیں ہماری پوری قوم کا بن چکا ہے۔ اپنے حقوق کی خاطر مرد و خواتین، بزرگ و جوان حتی کہ بچے بھی اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ روز کوئی اشکبار آنکھوں سے بتاتا کہ میرا بھی بیٹا گیا ہے، میری بھی کوکھ اجڑی ہے۔ یعنی پولیس کی وردی میں، اداروں کی ناک کے نیچے یہ جعلی مقابلے کب سے چل رہے تھے اور کوئی فالو اپ رپورٹ لینے والا نہ تھا کہ آخر یہ کونسی انصار الشریعہ ہے جس کے نام نہاد دہشتگرد اتنے ناکام ہیں کہ صرف ایک ہی پولیس پارٹی کے ہاتھ لگ رہے ہیں یا صرف ایک ہی پولیس پارٹی کی انٹیلیجنس اتنی مضبوط ہے کہ ہر دفعہ اس کا ہاتھ صحیح ٹارگٹ پر ہی پڑتا ہے۔ مگر یہاں خون بہہ جاتا ہے۔ پوچھنے والا کون ہے۔ وہ صحیح حقیقت بیان کرتے ہیں کہ غریب تباہ دے۔
نہ کسی نے پین دی سری کہا، نہ کسی ادارے کی تذلیل کی، نہ گالیوں کی بوچھاڑ ہوئی اور نہ ہی آنسو گیس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ نہ مقدس ہستیوں کی جانب سے بشارت کے حوالے دیے گئے اور نہ ہی کسی قسم کی فتوی بازی ہوئی۔ اتنا منظم، پر امن اور پر جوش دھرنا اسلام آباد نے حالیہ سالوں میں کب دیکھا؟ جہاں شرکاء کو اکسایا نہیں گیا بلکہ پر امن رہنے کہ تلقین کی جاتی تھی، جس دھرنے کے آخر میں کسی کی منزل وزارت نہیں بلکہ خون کا حساب تھی اور جس دھرنے کے غریبوں کو کسی قسم کا لالچ یا شہرت کا نشہ نہ تھا۔ بلکہ اپنے بچوں کا مستقبل اور جینے کا حق مانگا جا رہا تھا۔ میڈیا نے کوریج نہ دی کوئی بات نہیں۔ کئیں نوجوان اپنے موبائل سے لائیو اسٹریم کر رہے تھے۔ آخر میڈیا کو بھی ہوش آیا۔ کتنے ہی وزیر، وزراء اور سماجی شخصیات نے وہاں جا کر اظہار یکجہتی کیا اور خطاب کیا مگر کسی کی بھی ذاتی حیثیت سے مرعوب ہوئے بغیر مظاہرین اور منتظمین اپنے مطالبات پر قائم رہے۔ کسی کو گھر جانے کے لئے لفافے نہیں چائیں تھے۔ مطالبات تھے تو کچھ ایسے کہ ان کے گھر کی طرف سے مائینز صاف کی جائیں جو اب تک 70 سے زائد افراد کو اپاہج کر چکی ہیں۔
آج ہم سب اپنے پکے گھروں میں موسم کی سختیوں کو مختلف طریقوں سے زیر کرتے ہر دن کا آغاز اپنے مستقبل کے بارے کچھ منصوبہ بنا کر کرتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ اگر ہمارا مستقبل ہی نہ ہو؟ ہمیں اپنے ہی گھروں سے نکال دیا جائے، بڑے شہر ہمارے لیے محفوظ نہ ہوں اور ہم سے زندگی بغیر کسی وجہ کے چھین لی جائے؟ آج یہ قبائلی بڑی مصیبتیں اٹھانے کے بعد ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بنے ہیں۔ ان کی ضرورت یا ان کی حیثیت کو ماننے سے بھی پہلے ہم سب کو ان سے شرمندگی کا اظہار کر کے معافی کا طلبگار ہونا چاہیے کہ جو اذیت وار آن ٹیرر میں انہوں نے اٹھائی ہے ہم نے اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیکھا اور ٹھنڈے ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر بحث کرتے ہیں کہ کس کو کس کے ساتھ کی قیمت چکانی پڑی۔ ہم ان اجڑی ہوئی ماؤں کے لخت جگر واپس نہیں کر سکتے۔ ہم نقیب کے بچوں کو فوج میں بھیجنے کا لالی پاپ تو دے سکتے ہیں مگر ان کے سر پر ان کے باپ کا سایہ نہیں لوٹا سکتے۔ اور ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم کبھی راؤ انوار کو تختہ دار پر بھی نہیں دیکھ پائیں گے کیونکہ وہ بڑے بڑے کاریگروں کا منظور نظر ہے صرف ہمیں ہی بہلاوہ ہے کہ اتنے عرصے تک اس کی سرگرمیاں کسی کو نظر نہ آئیں۔ طاقتور کو سزا کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ ایک تازہ مثال شاہ رخ جتوئی کی ہے جو کمرہ عدالت میں جج کو کہتا ہے سائیں بچپنا تھا۔ جس کو گرفتار کیا جائے تو وہ جیل کے بجائے اسپتال پہنچتا ہے اور جب باہر آتا ہے تو اکڑ کر انصاف بمقابلہ دولت کے میچ میں اپنی ٹیم کے جیتنے پر فتح کا نشان بناتا ہے۔
جس کے دوست امراء اور اشرافیہ ہوں اس کا ناخن بھی نہیں اکھڑ پاتا اور جو ٹوٹا گھر چھوڑ کر، ڈرون کے لپیٹوں سے بچ کر، اپنے خواب دل میں رکھ کر کمانے نکلتے ہیں وہ تاوان کی خاطر تو کبھی ترقی کی خاطر مارے جاتے ہیں۔ پھر وہ صحیح کہتے ہیں نہ کہ غریب تباہ دے۔
جنہیں ہم غیر تعلیم یافتہ، سخت گیر، جنگجو اور دہشتگرد سمجھتے ہیں اور نصاب میں پڑھاتے ہیں کہ ”پٹھانز آر وار لائک پیپل“ آج وہ ہم سب کو تہذیب سکھا گئے کہ 9 دن میں دارالحکومت میں کوئی سیاسی رہنما دھرنے کو ہائی جیک نہ کر سکا، دھرنا پر امن رہا اور قائدین نے دھرنے کے شرکاء کو مکمل طور پر تشدد اور ہلڑ بازی سے دور رکھا۔ کسی اسپیکر کی تذلیل نہ کی گئی۔ ہر شخص کو بلا تفریق خوش آمدید کہا گیا اور کسی بھی مرحلے پر نا اتفاقی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب اس بات کو تسلیم کریں کہ نڈر، بے خوف اور بہادر پختون با ادب، یکسو اور پر امن بھی ہیں۔ انہوں نے بتا دیا ہے کہ دھرنا کیسے دیا جاتا ہے۔