میرے پاس ٹائم لائن پہ کل سے بہت مرتبہ ایک تصویر آئی ہے۔ ایک طرف بچی کی سبز ہلالی پرچم تھامے تصویر ہے اور برابر میں اسکے ساتھ زیادتی کے بعد قتل ہونے کے بعد کی تصویر جوڑی گئی ہے۔ بہت لوگوں نے شیئر کی۔ میں نہیں کر سکی کیونکہ دونوں تصاویر میں بچی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک طرف جھنڈا اٹھائے اسکی آنکھوں میں بہت سے خواب سجے ہوئے ہیں۔ بڑے ہو جانے کا شوق، بھائی، بہنوں اور دوستوں کے ساتھ شرارتوں کی پلاننگ یا اسکول کی کسی دھیمی بولنے والی پیاری سی ٹیچر بن جانے کی آرزو۔۔۔ اور نہ جانے کیا کیا ہو گا جو میں نہیں دیکھ سکتی مگر جو دوسری تصویر میں دیکھا وہ بیان کرتی ہوں۔ سرد آنکھیں کھلی ہیں۔ کھیتوں میں مٹی سے اٹا انسان کے روپ میں درندوں کا بھنبھوڑا، نوچا ہوا جسم اور چہرے پہ ایک بے بسی۔ آنکھیں چیخ رہی ہیں کہ میری چیخیں جو ہتھیلی سے دبا دی گئیں وہ اوکاڑہ کے آسمان سے اوپر بھی نہ سنی گئیں؟ ایک ایسی درندگی جس کے بارے میں اس معصوم نے کبھی سنا تک نہ تھا کہ دنیا میں ایسا بھی کوئی ظلم ہے۔ اسے تو ابھی صرف کھلونے، دوپٹہ لیکر ٹیچر ٹیچر کھیلنا، کبھی کسی بڑے کا چشمہ پہن کر ڈاکٹر بن جانا یا چمچ کا فرضی مائیک تھامے گانے گانا آتا تھا۔ اسے تو ایسی درندگی کا تعارف بھی نہ تھا جو اسے خوف، اذیت اور پھر عذاب سے دو چار کرنے کے بعد موت کے حوالے کر گئی۔
اول تو ایسی خبریں ریٹنگ نہیں پکڑتیں اس لئے ان کے کوئی پیکج نہیں چلائے جاتے لیکن اگر وہاں کا کوئی سیاسی نمائندہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے تو یہ ایک فوٹو سیشن اور سیلفی ایونٹ بھی بن سکتا ہے۔ کوئی آ کر مخصوص رٹے رٹائے ملزمان کو سخت سے سخت سزا، کیفر کردار، لواحقین کو صبر، پانچ لاکھ کا اعلان اور دل خون کے آنسو والا صفحہ دہرا کر چلا جائے گا، پولیس پرچہ کاٹ کر مشتبہ افراد کو پکڑے گی پھر مختلف حیلے بہانوں سے جیبیں گرم ہوں گی اور آخر کار کارروائی کی طوالت سے تنگ آ کر آہستہ آہستہ سب اس قصے کو بھول جائیں گے۔
ایک وائرل تصویر ہے۔ خوبرو سا جوان وطن عزیز کی خاطر “شہادت” کے مرتبے پہ فائز ہو گیا کیونکہ پیغام دیا گیا ہے کہ آزادی قربانی مانگتی ہے۔ جانے کونسی آزادی اور کس سے آزادی ہے جو خون کی اتنی پیاسی ہے کہ ہمارے جوان بیٹے مانگتی ہے اور بوڑھی مائیں سسکتی رہ جاتی ہیں۔ آپ نے اگر اس نوجوان کی مسکراتی تصویر میں اس کی آنکھوں کو جگمگاتا نہیں دیکھا تو پھر آپ سمجھ نہیں سکتے کہ اس عمر میں ایڈونچر، شرارت، بے مقصد قہقہے، لا معنی بحث اور فون پر طویل گفتگو کتنی بڑی تفریح ہے۔ دنیا کی خوبصورتی اور انسانوں کی بد صورتی سے اسی عمر میں اکثر تعارف ہوا کرتے ہیں۔ کیا کسی نے کبھی ان مسکراتی تصاویر والے جوانوں سے پوچھا ہے کہ تم شہید ہونا چاہتے بھی ہو یا جینا چاہتے ہو؟ کسی کے ساتھ عمر گزار کر بوڑھے ہونا چاہتے ہو؟ کسی کے ساتھ کیے وعدے پورے کر کے اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھنا چاہتے ہو۔ ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے کوئی ایڈونچر کرنا چاہتے ہو۔ کوئی شام چائے کا کپ بالکنی میں لے کر بے مقصد گنگنانا چاہتے ہو؟ میچ دیکھتے ہوئے پاگلوں کی طرح چیخنا چاہتے ہو۔ دوست کی شادی میں بھنگڑا چاہتے ہو۔ اپنے ہاتھ سے بوڑھے والدین کے پیر دبانا چاہتے ہو۔ کوئی اس سے کبھی پوچھتا ہے کہ تمہاری ماں کی گود میں جب تم آئے تھے تو کیا اسے پتہ تھا کہ تم آزادی کی قیمت ہو؟
اس بچی کے ہاتھ میں جھنڈا ہے اور اس جوان کے جسم پہ۔ کیا ان دونوں کی مرضی جاننے میں کسی کو دلچسپی تھی؟ کیا ان کے قاتلوں نے ان سے زندگی چھیننے سے پہلے یہ پوچھا ہو گا کہ تمہیں کیا بننے کا شوق تھا؟ اور تم کیا بننے چلے ہو؟
کس آزادی کی قیمت یا کس کے کیے گناہ ہوتے ہیں جو ہمارے بچے ادا کر رہے ہیں؟ کرپشن کی آزادی، جھوٹ کی آزادی، لاقانونیت اور درندگی کی آزادی، امیر اور اشرافیہ کی ہمیشہ فتح کی آزادی، گناہ اور گنہگار پر پردہ ڈال کر اسے مزید گناہ کرنے کی شہہ دینے کی آزادی؟ جنون کے ہاتھوں ہوش و حواس کو چھین لینے کی آزادی، سوال کی جرات کرنے والے کو مثال بنا دینے کی آزادی؟ گونگی بہری اور معذور لڑکیوں کو نوچنے کاٹنے کی آزادی، بکری مرغی اور اندھی ڈولفین پہ ظلم کر کے مردانگی کی سند حاصل کرنے کی آزادی، خادم و مخدومین کے ہاتھوں تحفظ کا احساس یرغمال بنا دینے کی آزادی۔۔۔
ان سے نہیں پوچھا گیا مگر وہ روز آخر ہم سے پوچھیں گے کہ تم سب کی “مصلحتا خاموشی” بھی ہماری قاتل تھی۔ تم سب بھی شامل جرم تھے اور تم سب کی بے حسی ہی وجہ بنی کہ ہم آخری نہ تھے بلکہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ایک پرچم تھامے ہوئے تھی اور ایک پرچم لپیٹے ہوئے۔ ارے کوئی تو ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگ شہید ہونا چاہتے بھی ہو یا جینا چاہتے ہو؟