جلالی پیر بابا سے اب کون کون جن نکلوانا چاہتا ہے؟

’وہ جی پیر صاحب نے کہا تھا آج رات کو تم سب کو جنت کا ٹکٹ دوں گا‘۔’پیر صاحب کو ذرا زیادہ جلال آگیا تھا۔ بڑی کرامات والے ہیں‘۔ یہ ان زخمیوں کے تاثرات ہیں جو اپنے ’کراماتی‘ پیر صاحب کے ہاتھوں جنت کا آدھا ٹکٹ لے بیٹھے اور ہسپتال میں جا پہنچے۔ جا بجا آپ نے بھی ہزاروں مرتبہ سینکڑوں اشتہار دیکھے، سنے، پڑھے ہوں گے۔ کوئی پیر صاحب، کوئی بنگالی بابا، کوئی حضرت صاحب تو کوئی بنگالی باجی۔ شرطیہ دعویٰ سب ایک جیسا کرتے ہیں جن میں سرفہرست ساس کو زیر کرنا، محبوب وشوہر کو قدموں میں لانا اور اولاد کا صرف اور صرف نر ہونا شامل ہے۔ آستانے جیسا کہ ٹی وی پروگراموں کے خفیہ آپریشن میں کئی مرتبہ دکھا ئے جاچکے ہیں اس کے مطابق دو حصے خواہش مند یا آرزومند افراد کیلئے مختص ہوتے ہیں۔ ایک برآمدہ نما اور ایک کوئی اندھیر اسا سٹور نما کمرہ۔ کہیں ڈنڈوں، لاتوں اور ہاتھوں سے پیٹ کر جن نکالنے میں کامیاب نہ ہو پائیں تو دہکتے کوئلوں، کھولتے تیل اور کرنٹ کے جھٹکوں سے بھی جن نکالنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات جن نہ نکل پائے تو جان نکل جاتی ہے پھر اپنے کئے کو ’اللہ دی مرضی‘ کہہ کر مٹی تلے دبایا جاتا ہے۔ ایسا ہر صوبے کے کم و بیش تمام شہروں میں کہیں کھلے عام تو کہیں چھپا کر کیا جاتا ہے۔ کہیں ٹارچر سیل کو آستانہ، کہیں مزار، کہیں دربار کا نام دیا جاتا ہے۔ کہیں بابا جی اتنے مستا جاتے ہیں کہ خواتین کا مسئلہ صرف رات کی تاریکی میں سلجھانے کو بلاتے ہیں تو کہیں اتنا ڈراتے ہیں کہ لوگ اپنے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کے گلے کاٹتے پھرتے ہیں۔ کہیں اتنا لالچ دیتے ہیں کہ سونا لا۔ میرا جن دگنا کر دے گا اور پھر جب کیک کے چکر میں روٹی سے بھی جاتے ہے تو ایک بار پھر ’اللہ دی مرضی‘ کہہ کر کوئی ایسا تعویز دیتے ہیں کہ نہ پہننے والے کو پتا کیا لکھا ہے اور نہ پہنانے والے کو علم کہ کچھ لکھا بھی ہے یا نہیں۔ کہیں اولاد نرینہ کی خواہش گھر کی عزت کو رات کی سیاہی میں ’کرامات‘ کو تھما دیتی ہے تو کہیں ساس سے چھٹکارے کے چکر میں اپنی جمع پونجی سے ہی چھٹکارا حاصل کر بیٹھتے ہیں۔

دراصل کمزور ایمان اور جہالت کا روزانہ کی عبادات اور ڈگریوں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ گھریلو ناچاقی کو بیٹھ کر بات چیت اور صبر و برداشت سے سلجھانے کی بجائے ایک ایسے فرد سے امید لگانا جس کا گھر سے کوئی لینا دینا ہی نہیں وہ گھر کا بھلا کیوں چاہے گا؟ اگر تمام گھروں میں امن ہو جائے تو اس کی دکان تو بند ہو جائے۔ اس لئے وہ مزید غلط فہمیاں ذہن میں ڈال کر انسانی نفسیات سے کھیل کر اپنا بزنس جاری رکھتا ہے۔ اولاد کا ہونا وہ بھی نرینہ کسی عامل کے ہاتھ نہیں۔ خود اللہ نے قرآن میں فرما دیا کہ جس کو چاہے بیٹی دوں جس کو چاہے بیٹے، تو پھر شک کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں سب صبح شام، جب اللہ نے انہیں اولاد نرینہ نہ دی ،پھر بھی وہ بیٹیوں کو لاڈ کرتے تھے تو پھر ہم اس چیز کو سنت کے طور پہ کیوں نہیں لیتے؟ جو کام سائنس و ٹیکنالوجی آج تک نہ کرواسکی بابا جی کیسے کروائیں گے؟

کاروبار میں مندہ یا بالکل ٹھپ ہو جانا ایک قدرتی عمل ہے۔ سدا تو کنواں بھی پانی نہیں دیتا پھر تدبیر کی بجائے دھاگے کیا سدھار لا سکتے ہیں؟ ساس…. یااللہ ایک میری ماں ایک اس کی ماں۔ اپنی ماں کیلئے دعا۔ اس کی ماں کیلئے بددعا۔ اپنی ماں کو سبق کہ بھابھی کو سر مت چڑھانا۔ اس کی ماں سے امید کہ میرے نخرے اٹھائے۔ بڑھاپا اکثر بیماریاں لاتا ہے اور فراغت دماغ کو شیطانی وسوسے دیتی ہے۔ جب ہر گھر میں یہ دو عوامل موجود ہیں تو یہ سفوف، دھاگے، تعویذ صرف بگاڑ ہی لائیں گے۔

اب آتے ہیں جن، جنات، سایہ کی جانب۔ بیماری بالخصوص ڈپریشن کی تمام علامات کو جن کا سایہ سمجھنا نہ صرف صریح جہالت بلکہ ایک انسانی جان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔ بچے کے زیادہ رونے کا سبب بیماری ہے جن نہیں۔ جب ہر رات سونے سے پہلے بجائے اسے ہنسانے کے ڈرایا جائے گا تو وہ اپنے لاشعور میں ایسے خاکے بنائے گا کہ اپنے سائے کو بھی جن کا سایہ کہے گا۔ کاروباری نقصان، لڑکیوں کی شادی نہ ہونا یا تاخیر سے ہونے پر شدید معاشرتی دباﺅ اور توجہ حاصل کرنے کیلئے آواز بدلنا، اپنا آپ چھوڑ دینا یا آپے سے باہر ہوجانا ڈپریشن کی نشانیاں ہیں جس کا علاج ماہر نفسیات کرتا ہے پیر صاحب نہیں۔

ان سب چیزوں کا تعلق ہمارے دماغ اور اطراف میں نسل در نسل گردش کرتی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب مذہب کے نام پر ہوتا ہے جبکہ مذہب کا دور دور تک ان چیزوں سے واسطہ نہیں۔ نام لے کر تعویز گنڈوں جیسی جہالت کی نفی کی گئی ہے مگر ہمارا معاشرہ جہالت کو اپنا انتخاب بنا کر خوش ہے۔ ایسے متعدد واقعات ہوئے اور مزید ہوں گے۔ 20 افراد کو ڈنڈوں اور خنجروں سے مارنے والے یہی پیر صاحب ہوں گے، جب جب پیشی پہ جائیں گے لوگ ان کے ہاتھ چومیں گے اور جب سرخرو ہوکر ‘باعزت‘ رہا ہوں گے تو لوگ ان کو سر سے پیر تک چومیں گے۔ پھر سے ڈیرا لگے گا۔ پھر سے عورتیں آئیں گی۔ اپنے بچے ان کے حوالے کر کے ڈنڈے سے پٹتا دیکھ کر شکر کریں گی کہ ’پیر صاب جن کڈ رئے نے۔ وڈی کرامات نے اینا دی ویکھو جن کس راں چیکاں مار دا اے‘۔
جب جہالت ایک قوم کا مقدر بن جائے تو ذلالت اس کے حصے میں لکھ دی جاتی ہے۔

Leave a Comment