خانزادی نہیں بلکہ صرف صاحبزادی ہی محفوظ ہے

خانزادی کا تعلق جیکب آباد سے ہے۔ عمر کا مجھے اندازہ نہیں مگر ایک علاقائی چینل پر اس کی خبر سنی۔ انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ سرپھری، علاقے کے فرسودہ ماحول سے بے پرواہ، ایک درخت کے نیچے علاقے کے بچوں کو مفت تعلیم دینے لگی۔ یہ جرات علاقے کے \’بااثر\’ افراد کو ناگوار گزری اور انہوں نے ایک جرگے کے فیصلے کے مطابق (بعداز تشدد) خانزادی کو علاقہ بدر ہونے کا حکم دیا۔ کیسی احمق لڑکی تھی جو تعلیم دینے چلی تھی۔ بھلا یہ بھی کوئی دینے والی شے ہے؟ ہاں روپیہ، پیسہ، روپ، خزانہ یا عزت نفس پیش کرتی تو بااثر افراد کے اثر میں اضافہ ہوتا۔ اب جان بچاتی کراچی آئی ہے۔ جانے کتنی زمین ناپے گی اور کب تک۔ ہاں مگر یہ ہے اس سندھ دھرتی کی داستان جو پچھلے کچھ عشروں سے ایک آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ عورت کی تصویر کو مارے عقیدت ماتھے سے لگا کر اپنی صبح غلامی کا آغاز کرتی ہے۔ مگر ایک \’بااثر\’ اور \’بےاثر\’ کی بیٹی میں یہی فرق ہے کہ ایک کو فرنگیوں کے بیچ تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے جب کہ دوسری کو درخت کے نیچے الف ب کی گستاخانہ صدا لگانے کی بھی اجازت نہیں۔
سنا ہے اہل عرب کو بیٹی کی پیدائش کی اطلاع ملتی تو ان کے چہرے کالے پڑ جاتے اور وہ رنج سے چھپ جاتے۔ یہ تو عرب کا زمانہ جاہلیت تھا۔ ہمارے عظیم معاشرے کی جہالتیں بھی عظیم ہیں جو چودہ جماعتوں کے سرٹیفیکیٹ سے بھی پرے نہیں ہوتیں۔ اب بھی کئیں شہری بابو بیٹی کا سن کر چہرہ ناامیدی سے بھر لیتے ہیں۔ آس پاس خواتین نووارد کو آتے ہی نصیب، قسمت، اللہ کی مرضی، قدرت کو جو منظور وغیرہ جیسے الفاظ سے ویلکم کرتی ہیں۔ قصہ مختصر کہ لڑکا ہوا تو مبارکباد اور لڑکی ہوئی تو تسلی ملے گی۔
دور جہالت میں نومولود بچی کو دفناتے تھے۔ جدید دور میں اسے بڑا کر کے زندہ درگور کرتے ہیں۔ والدین سے زیادہ معاشرے کی مداخلت۔ ایک سے ایک منافق آپ کو پارسائی کی سند اور شرافت کے میڈل بانٹتا دکھائی دے گا۔ ہر شاخ پہ بیٹھا الو \”معاشرتی کمنٹری\” کے فرائض بلامعاوضہ ادا کرنے کو تیار ہے۔
گذشتہ دنوں شاہ لیلی نامی فٹبالر ایک حادثے میں چل بسی۔ اس نام کو تو چھوڑیں، کوئی کامیاب فٹبالر لڑکی بھی ہے، یہ تک ہمیں نہ پتا تھا۔ انتقال کی خبر کو سوشل میڈیا پر کیا آنا ہوا تبصروں کی آگ لگ گئی۔ برساتی پارسائوں نے مختلف کمنٹس دئیے مگر ایک حضرت نے لکھا: \”شارٹس پہن کر کھیلتی تھی۔ یہ حادثہ تو کم ہے۔ آگے بھی سزا ملے گی-\” پتا نہیں اللہ میاں نے انہیں فون کر کے بتایا یا پھر جزا وسزا کا اختیار اور جنت دوزخ کی اسناد ان کے حوالے کر رکھی ہوں۔
میری صرف اتنی گذارش ہے کہ کاش ہم سب خدا اور فرشتہ بننے کے بجائے صرف انسان بن کر انسانوں والی سوچ اپنا لیں تو یقیناً برقعے والی سے لے کر جینز والی سب کو ہی احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ہمارے معصوم بچوں کا بچپن مدرسے، اسکول اور گھروں میں بھی انشااللہ محفوظ ہو جائے گا۔
تحریر: فرح لودھی خان

Leave a Comment