صدر صاحب! کوما میں گئے مجرم کی سزائے موت بھی معاف کر دیں

باسط کو زندوں میں شمار کریں یا مردوں میں۔ وہ کوما میں ہے اور جس دن وہ ہوش میں آئے گا اسے سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ کیا اس کی ماں اور بیوی بچے اس کے ہوش میں آنے کی دعا کرتے ہوں گے؟ باسط کو ایک قتل کے مقدمے میں 2009 میں سزائے موت سنائی گئی اور اسی سال اسے ساہیوال جیل سے فیصل آباد جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس کے اہل خانہ کے مطابق وہ اور کچھ قیدی جیل انتظامیہ کی جانب سے بہیمانہ تشدد کے خلاف سراپا احتجاج تھے تو سخت سزا کے طور پر انہیں ایک غلاظت بھرے سیل میں منتقل کر دیا گیا جہاں سے باسط ٹی بی کے جرثومے کا شکار بنے اور آخر کار ایک دن ان کی بیگم کو جیل حکام کی جانب سے کال آئی کہ باسط ٹی بی میننجائٹس کا شکار ہو کر کوما کی حالت میں اسپتال میں ہیں۔

باسط کی ماں اور بیوی کے مطابق باسط بے قصور ہے لیکن ان کی اس حالت کے باوجود دو مرتبہ ان کی سزائے موت کے احکام جاری ہو چکے ہیں مگر صرف اس وجہ سے پھانسی نہ ہو سکی کہ جیل حکام کی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک مفلوج بے ہوش انسان کو پھانسی کیسے دی جائے؟ باسط کی بیگم کے مطابق باسط کی سزا کے ساتھ ہی وہ اس قدر مشکلات کا شکار ہوئیں کہ ان کے پاس اپنے ایک سال کے بچے کا دودھ تک خریدنے کے پیسے نہ تھے اور وہ پانی میں چینی ملا کر بچے کو پلاتی رہتیں اور وہ روتا روتا بلآخر سو جاتا۔

کیا باسط کے اہل خانہ اس زندہ لاش کی زندگی کے لئے دعاگو ہوں گے؟ جس دن وہ ہوش میں آیا تو ان سے یہ مفلوج وجود بھی چھین لیا جائے گا۔ میں نے سب سے پہلے برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ اور بعد ازاں ڈان اخبار میں باسط پہ بنائی گئی رپورٹس پڑھیں۔ مجھے علم نہیں اور نہ ہی اندازہ ہے کہ باسط مجرم ہے یا معصوم مگر کیا میرے دیس میں قاتلوں کو واقعی سزا ملتی ہے؟ شاہ رخ جتوئی کا فتح کا نشان یہاں انصاف کو اندھا ثابت کر چکا۔ ریمنڈ ڈیوس بھی فراٹے بھرتا ہوا نکل گیا۔ یہاں زندہ بچے چھوڑیں اندھی ڈولفن اور مسکین مرغی تک دہائیاں دیتے رہ گئے مگر ہر نیا دن پرانا سورج لے کر طلوع ہوتا ہے جس کا ترانہ ہے کہ جب تک اپنا گھر نہ جلے، پڑوس کی آگ کو آگ نہ کہو۔

آپ میں سے اکثر نے وہ فوٹیج دیکھی ہوگی جس میں ایک نوجوان کو موبائل چوری کے شبے میں ایک رینجرز والے نے فائرنگ کر کے مار ڈالا تھا۔ یہ واقعہ کراچی میں ہوا اور متاثرہ نوجوان تڑپتا ہوا رحم اور مدد مانگتا رہا اور آخرکار خون زیادہ بہہ جانے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ٹی وی میرے عقب میں تھا اور میں یونیورسٹی پراجیکٹ میں مصروف تھی۔ بلیٹن چلا اور اس لڑکے کی چیخوں نے مجھے ہلا دیا۔ وہ تڑپتا چیختا جا رہا تھا کہ میں نے چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیا کہ دیکھو اسے مار دیا۔ دیکھو اس نے مار دیا۔ پورے ملک نے دیکھا اور آج بھی انٹرنیٹ پہ دیکھا جا سکتا ہے۔ قتل ہوا؟ کس نے کیا؟ کیسے کیا؟ مگر صدر صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔ اتنے رحم دل ہو گئے کہ تمام ذمہ داران کو دھوم دھڑکے سے معاف فر ما دیا۔ چلیں اچھا ہی کیا۔ کراچی کے جوانوں کا خون تو عشروں سے سستا ہے۔ کبھی لسانیت کے جن کا پیٹ بھرتے ہیں تو کبھی منشیات فروشوں کی گینگ وار کا۔ کبھی بھتہ کی لڑائی میں کام آجاتے ہیں تو کبھی کسی سیاسی رہنما کے قتل کے بعد کے ہنگاموں اور ہڑتالوں میں۔

مگر صدر صاحب! ایک ہٹے کٹے تندرست قاتل کو معاف کر دیا تو ایک ”مفلوج الحال“ کو بھی معاف کر دیں۔ موت سے بدتر حالت میں قابل رحم اس وجود کو بخش دیں کہ اس کے بیوی بچے اس وجود کی زندگی کی دعا ہی کھل کر کر سکیں۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ خاموش رہتے ہیں مگر خاموشی میں ہی سب کے بڑے کام آجاتے ہیں تو براہ کرم اس اجڑے ہوئے گھرانے پر رحم کی ایک نظر ڈالیں جو خاکی بھی نہیں، نوری بھی نہیں، ناری بھی نہیں بس عام عوام میں سے ہے۔ جہاں اتنے قاتل شان سے فتح کا نشان بناتے ہیں وہاں ایک کوما کی حالت میں بے حس و حرکت جسم بھی ذرا آپ کے رحم سے آشنا ہو جائے۔

جانتی ہوں کہ ایجنٹ، غدار، بدنامی اور مزید عجیب و غریب القابات ملیں گے مگر کیا کریں ملک و ملت کے چہرے پہ داغ صرف آواز اٹھانے والے لگاتے ہیں اور وہ کیچڑ جو با اثر ظالم کی شکل میں موجود ہے اس پہ ہم اپنی کمال منافقت کی چمک پٹی لگا کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں یہ کیچڑ کی بو کہاں سے اٹھ رہی ہے؟

Leave a Comment